بنگلورو،5؍فروری(ایس او نیوز)کرناٹک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کی طرف سے حجاب کے استعمال کا تنازعہ دن بہ دن طول پکڑتا جا رہا ہے- اڈپی کے ایک سرکاری جونئر کالج سے شروع ہونے والا یہ معاملہ کندا پور پھربیلگاوی اوربعد میں بھدراوتی کے کالجوں تک پہنچ گیا ہے جہاں مسلم طالبات کو کالج کے اندر حجاب پہن کر داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے- دن بہ دن اس معاملہ میں جس طرح کے حالات بنتے جا رہے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ طاقتیں کرناٹک میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوادینے کی کوشش کر رہی ہیں ۔
اُڈپی پھر کندا پور میں جب باحجاب طالبات کو کالج کےکیمپس میں داخل ہونے نہیں دیا گیا تو وہیں حجاب کی مخافت کرتے ہوئے کنداپور کے چند غیر مسلم طلبہ نے زعفرانی شال اوڑھ کر اپنا احتجاج درج کیا جس کے بعد سنیچر کو کنداپور کالج میں چھٹی کا اعلان کیا گیا۔
وزیر تعلیم کا بیان:ریاستی ایک طرف مسلمانوں کے خلاف مہم چلانے کی ذہنیت رکھنے والے چند طلبہ اچانک زعفرانی شال اوڑھ کر کالج میں داخل ہوتے ہوئے مسلم طالبات کو حجاب سے بے دخل کرنے کی کوششیں عیاں ہورہی ہیں وہیں وزیر تعلیم بی سی ناگیش اس معاملہ میں سارا الزام کانگریس پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے ہوئے بیان دے رہے ہیں کہ اسکولوں کو یونیفارم مقرر کرنے کا اختیار دینے کا حکم نامہ کانگریس کے دور اقتدار میں ہی جاری کیا گیا تھا، اس کے مطابق ہی یونیفارمس طے کئے جا رہے ہیں - انہوں نے اس سوال پر جواب دینے سے گریز کیا کہ حجاب پہن کر آنے سے روک کر طالبات کے آئینی حقوق چھینے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ چونکہ عدالت میں ہے اس لئے حکومت عدالت کا فیصلہ آنے تک کوئی موقف نہیں اپنائے گی- انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے تعلیمی ادارو ں میں حجاب اور زعفرانی شال پہن کر آنے پر پابندی لگاتے ہوئے سرکیولر جاری کردیا ہے اور ہر کسی کو اس پر عمل کرنا لازمی ہو گا۔
زہر پھیلانے کی سازش؟ جس طرح ریاست کے مختلف اضلاع کے کالجوں میں سر پر حجاب اوڑھ کر آنے والی مسلم طالبات کو روک کر تعصب کا زہر پھیلایا جا رہا ہے وہیں عوام سوال کررہے ہیں کہ کہیں اسی کو بنیاد بنا کر ریاست کے حالات کو بگاڑنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے ؟ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس تنازعہ کو حکمت و مصلحت کے ساتھ سلجھالیا جاتالیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور حکومت یونیفارم قانون کی آڑ میں حالات کو قابوسے باہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے- اس بات کی دلیل ریاست کے وزیر توانائی سنیل کمار کے اس بیان سے ملتی ہے کہ کرناٹک کو طالبان بننے نہیں دیا جائے گا ۔
اقلیتی کمیشن کی ہدایت: اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے کرناٹک اقلیتی کمیشن نے ریاستی محکمہ تعلیم کے پرنسپال سکریٹری کو ہدایت جاری کی ہے کہ ریاست کے تمام تعلیمی اداروں میں یکم جون2021 کو جو صورتحال تھی اس کو جوں کا تو ں برقرار رکھنے کے احکامات صادر کئے جائیں - کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم نے اس سلسلے میں پرنسپال سکریٹری سیلوا کمار کو لکھے گئے مکتوب میں کہا ہے کہ کالجوں میں طالبات کو حجاب پہن کر کلاسس میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے - انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر کرناٹک ہائی کور ٹ میں سماعت جاری ہے اس لئے جب تک معاملہ عدالت میں نپٹ نہیں جاتا اس وقت تک کسی طرح کا تنازعہ کھڑا ہونے نہ دیا جائے۔
حجاب کا استعمال نیا نہیں: ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے کہا کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہن کر آنے کا رواج نیا نہیں ہے بلکہ مسلم طالبات برسوں سے پردہ اور حجاب پہن کر کالج آتی رہیں ہیں۔ اس لئے اس کو روکا جانا ان طالبات کی آئینی حق تلفی ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ کندا پور میں جس طرح کالج کے پرنسپال کے با حجاب طالبات کو کالج کے گیٹ پر کھڑے ہو کر ان کو اندر آنے سے روکا یہ حرکت غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں طالبات عدالت سے رحوع ہوئی ہیں دیکھتے ہیں کہ اس پر فیصلہ کیا ہو گا۔